سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ: باب: حقیقی باپ کے بجائے کسی غیر کو باپ بنانا
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: "كُفْرٌ بِاللَّهِ ادِّعَاءٌ إِلَى نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ، وَكُفْرٌ بِاللَّهِ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ .محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: غیر معروف نسب کا دعویٰ کرنا اللہ کے ساتھ کفر ہے، اسی طرح کسی نسب سے براءت ظاہر کرنا چاہے وہ ذرا سا ہی ہو اللہ کے ساتھ کفر ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2894)
اپنے آپ کو کسی دوسرے خاندان یا قبیلے کی طرف منسوب کرنا، کسی قبیلے یا خاندان کا فرد ہونے کے باوجود اس سے انکار کرنا، دونوں صورتیں حرام ہیں، مثلاً کوئی بزاز، حجام یا حداد قبیلے کا فرد شرم کے مارے اپنے قبیلے سے انکار کرے یا اپنا نام کسی ایسے قبیلے کی طرف منسوب کرے جو اس کا خاندان و قبیلہ ہے ہی نہیں، جیسے قریشی، ہاشمی یا سید وغیرہ لگا کر لوگ اپنا انتساب ان معزز قبائل کی طرف کرتے ہیں تاکہ عزت و وقار ملے تو ایسا کرنا الله تعالیٰ کے ساتھ کفر ہے، جھوٹ اور افتراء ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
اپنے آپ کو کسی دوسرے خاندان یا قبیلے کی طرف منسوب کرنا، کسی قبیلے یا خاندان کا فرد ہونے کے باوجود اس سے انکار کرنا، دونوں صورتیں حرام ہیں، مثلاً کوئی بزاز، حجام یا حداد قبیلے کا فرد شرم کے مارے اپنے قبیلے سے انکار کرے یا اپنا نام کسی ایسے قبیلے کی طرف منسوب کرے جو اس کا خاندان و قبیلہ ہے ہی نہیں، جیسے قریشی، ہاشمی یا سید وغیرہ لگا کر لوگ اپنا انتساب ان معزز قبائل کی طرف کرتے ہیں تاکہ عزت و وقار ملے تو ایسا کرنا الله تعالیٰ کے ساتھ کفر ہے، جھوٹ اور افتراء ہے، اس سے بچنا چاہیے۔