حدیث نمبر: 2894
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهَذَا تَدَلَّى مِنْ حِصْنِ الطَّائِفِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِنَّهُمَا حَدَّثَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے شعبہ نے کہا اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا، اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جو طائف کے قلعہ پر چڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اترے تھے، ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعوی کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2893)
فرائض کے ابواب میں یہ حدیث اور بعد والی احادیث ذکر کرنے سے غالباً امام دارمی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ ترکہ اور میراث حاصل کرنے کے لئے کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ ہونے کا دعویٰ کرے تو یہ بہت بڑا بھیانک گناہ ہے، ایسے شخص پر جنّت حرام ہوگی، کیوں کہ ایک تو اس نے جھوٹ کا ارتکاب کیا، پھر اپنے حقیقی باپ کی باپتا سے انکار کیا اور غیر کا مال غصب کرنا چاہا، اس لئے جنّت اس پر حرام ہے۔
بخاری شریف کی دوسری روایت [بخاري 6768] میں ہے: اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے، جس نے اپنے باپ سے منہ موڑا تو یہ کفر ہے، یعنی اس نے کفر کا ارتکاب کیا اور کافر کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 2894
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2902]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4326، 4327] ، [مسلم 63] ، [أبوداؤد 5113] ، [ابن ماجه 2610] ، [أبويعلی 700، 706] ، [ابن رجب 415، 416]