سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ: باب: غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَقَالَ: "إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرًا مِثْلَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ"، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَسَكَتُّ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَدِدْتُ أَنَّكَ قُلْتَ، وَعَلَيَّ كَذَا.مجاہد نے کہا: میں مدینے کے راستے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کرتے نہیں سنا سوائے اس کے انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ آپ کے پاس کھجور کا ایک گابھا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کی مثالی مسلمان کی طرح ہے“ ، میں نے سوچا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا درخت ہے، لیکن دیکھا تو میں سب سے کم عمر ہوں، لہٰذا چپ رہ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش کہ تم نے کہہ دیا ہوتا اور مجھے یہ شرف و عزت حاصل ہو جاتی۔