حدیث نمبر: 2879
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ اللَّهُ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے ہی بعض نے بعض کو کھا لیا ہے، سو الله تبارک وتعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی ہے، ایک سانس سردی (کے موسم) میں، اور ایک گرمی میں، پس تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو پاتے ہو وہ اسی زمہریر کی وجہ سے ہے۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرقاق / حدیث: 2879
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2887]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3260] ، [مسلم 617] ، [أبويعلی 5871] ، [ابن حبان 7466] ، [الحميدي 972]