سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب في سُوقِ الْجَنَّةِ: باب: جنت کے بازار کا بیان
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا". قَالُوا: وَمَا هِيَ، قَالَ: "كُثْبَانٌ مِنْ مِسْكٍ يَخْرُجُونَ إِلَيْهَا فَيَجْتَمِعُونَ فِيهَا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا فَتُدْخِلُهُمْ بُيُوتَهُمْ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا، وَيَقُولُونَ لِأَهْلِيهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ" .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنت میں ایک بازار ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مشک کی خوشبو والے ریت کے دو ٹیلے ہیں، لوگ وہاں جائیں گے اور اس میں جمع ہونگے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایک ہوا چلائے گا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگی (جب وہ لوٹ کر آئیں گے) تو ان کی بیویاں کہیں گی: ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارے حسن و جمال میں بہت اضافہ ہو گیا، اور وہ اپنی بیویوں سے کہیں گے: تم بھی ہمارے بعد ایسے ہی ہوگئیں (یعنی حسن و جمال میں مزید نکھار آ گیا)۔“