سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب في أَهْلِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا: باب: اہل الجنۃ اور ان کی آسودگی کا بیان
حدیث نمبر: 2860
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ، وَالشَّهْوَةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ مِنْهُ الْحَاجَةُ ؟، َفَقَالَ: "يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ عَرَقٌ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمَرَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک آدمی کو کھانے، پینے، جماع اور شہوت میں سو آدمی کی قوت دی جائے گی“، یہ سن کر ایک یہودی نے کہا: جو کھاتا اور پیتا ہے اسے قضائے حاجت کی ضرورت پیش آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بول و براز کے بدلے) اس کی جلد سے پسینہ نکلے گا جس سے اس کا پیٹ سکڑ جائے گا (یعنی قضائے حاجت کی ضرورت نہ رہے گی۔)“