سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ: باب: غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
حدیث نمبر: 286
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، شَيَّعَ الْأَنْصَارَ حِينَ خَرَجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ لِمَ شَيَّعْتُكُمْ ؟ قُلْنَا: لِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا تَهْتَزُّ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ اهْتِزَازَ النَّخْلِ، فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ"، قَالَ: فَمَا حَدَّثْتُ بِشَيْءٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ كَمَا سَمِعَ أَصْحَابِي.محمد الیاس بن عبدالقادر
قرظہ بن کعب نے کہا کہ جب انصار مدینے سے نکلے تو انہیں رخصت کرتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جانتے ہو میں تمہیں رخصت کرنے تمہارے ساتھ کیوں آیا ہوں؟ ہم نے کہا: انصار کی فضیلت کی وجہ سے، فرمایا: تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جن کی زبانیں کھجور کے درخت کی طرح قرآن پاک کی تلاوت سے ہلتی رہتی ہیں، پس تم ان سے حدیث رسول بیان نہ کرنا، اور میں تمہارا شریک کار ہوں۔ قرظہ نے کہا: اس لئے میں نے کوئی حدیث بیان نہیں کی حالانکہ ان سے میں نے بھی حدیثیں سنی تھیں، جس طرح میرے ساتھیوں نے ان سے احادیث سنی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 284 سے 286)
«فلا تصدوهم بالحديث» یعنی: ان سے حدیث کی روایت میں احتیاط کرنا، جیسا کہ اگلی روایت میں آتا ہے۔
«فلا تصدوهم بالحديث» یعنی: ان سے حدیث کی روایت میں احتیاط کرنا، جیسا کہ اگلی روایت میں آتا ہے۔