سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب في حُسْنِ الْخُلُقِ: باب: حسن اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 2827
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ: ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2826)
اس حدیث میں ایمان اور حسنِ اخلاق کے درمیان تلازم کا بیان ہے، یعنی جو اخلاق میں جتنا کامل ہوگا ایمان میں بھی اتنا ہی کامل ہوگا، گویا کمالِ ایمان کے لئے حسنِ اخلاق میں کمال ضروری ہے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے اہل کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔
اس حدیث میں ایمان اور حسنِ اخلاق کے درمیان تلازم کا بیان ہے، یعنی جو اخلاق میں جتنا کامل ہوگا ایمان میں بھی اتنا ہی کامل ہوگا، گویا کمالِ ایمان کے لئے حسنِ اخلاق میں کمال ضروری ہے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے اہل کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔