حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يُرَى الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرَى فِي وَجْهِكَ بِشْرًا لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ ؟، قَالَ: "أَجَلْ، إِنَّ مَلَكًا أَتَانِي، فَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ لَكَ: أَمَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ، إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ، إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا ؟، قَالَ: قُلْتُ: "بَلَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے چہرے پر خوشی کی دمک دیکھ رہے ہیں، جو ہم نے پہلے نے نہیں دیکھی؟ فرمایا: ”ہاں، ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: اے محمد! آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ راضی نہیں ہوتے اس سے کہ جو آپ پر ایک بار درود بھیجے گا میں اس پر دس بار رحمتیں بھیجوں گا، اور جو آپ پر (ایک بار) سلام کرے گا میں اس پر دس بار سلامتی نازل کروں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: ہاں (یقیناً میں خوش ہوؤں گا)۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرقاق / حدیث: 2808
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف ولكن الحديث جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2815]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 1282، 1294] ، [ابن حبان 915] ، [الموارد 2391]