سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ: باب: غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
حدیث نمبر: 278
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيَّامِ، تَرَبَّدَ وَجْهُهُ، وَقَالَ: "هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ، هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی اور امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہما نے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایام کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے تو ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور وہ کہتے: «هكذا أو نحوه، هكذا أونحوه» (یعنی اس طرح یا اس کے ہم معنی آپ نے فرمایا)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 277)
ان تمام روایات سے صحابہ و تابعین کے احتیاط کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ کہ وہ ڈرتے تھے کہ یہ کہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور حقیقت میں ان کے حافظے میں کمی واقع ہوگئی ہو اور وہ ہلاکت میں پڑ جائیں، اس لئے وہ یہ کہنا پسند کرتے تھے کہ علقمہ یا عبداللہ نے یہ کہا، یا یہ کہ ایسا فرمایا، یا اس کے مثل یا مشابہ فرمایا، یا یہ کہتے تھے: «أو كما قال صلى اللّٰه عليه وسلم» ۔
ان تمام روایات سے صحابہ و تابعین کے احتیاط کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ کہ وہ ڈرتے تھے کہ یہ کہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور حقیقت میں ان کے حافظے میں کمی واقع ہوگئی ہو اور وہ ہلاکت میں پڑ جائیں، اس لئے وہ یہ کہنا پسند کرتے تھے کہ علقمہ یا عبداللہ نے یہ کہا، یا یہ کہ ایسا فرمایا، یا اس کے مثل یا مشابہ فرمایا، یا یہ کہتے تھے: «أو كما قال صلى اللّٰه عليه وسلم» ۔