سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ: باب: کون سا عمل سب سے اچھا ہے
حدیث نمبر: 2774
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَبُو جَعْفَرٍ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ.محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہريرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے اچھا عمل اللہ کے نزدیک ایمان ہے اس میں کوئی شک نہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2772 سے 2774)
افضل الاعمال کے سلسلے میں مختلف اوقات میں مختلف اشخاص کے لئے مختلف اعمال احادیث میں مذکور ہیں، کہیں نماز کو، کہیں جہاد کو، اور کہیں دوسرے امور کو افضل الاعمال میں ذکر کیا گیا ہے، تو یہ سائل کی حیثیت کے مطابق ہے، جس کو جس امر کی زیادہ ضرورت تھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ذکر فرما دیا۔
افضل الاعمال کے سلسلے میں مختلف اوقات میں مختلف اشخاص کے لئے مختلف اعمال احادیث میں مذکور ہیں، کہیں نماز کو، کہیں جہاد کو، اور کہیں دوسرے امور کو افضل الاعمال میں ذکر کیا گیا ہے، تو یہ سائل کی حیثیت کے مطابق ہے، جس کو جس امر کی زیادہ ضرورت تھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ذکر فرما دیا۔