سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ: باب: غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: "كُنْتُ لَا تَفُوتُنِي عَشِيَّةُ خَمِيسٍ إِلَّا وَآتِي فِيهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ، قَطُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، حَتَّى كَانَتْ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتَا عَيْنَاهُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُه، فَأَنَا رَأَيْتُهُ مَحْلُولَةً أَزْرَارُهُ، وَقَالَ: أَوْ مِثْلُهُ، أَوْ نَحْوُهُ، أَوْ شَبِيهٌ بِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن میمون نے کہا کہ میں ہر جمعرات کی شام کو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تھا۔ اور میں نے ان کو کبھی بھی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے نہیں سنا، ایک شام انہوں نے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا تو آنکھیں بھر آئیں، گردن کی رگیں پھول گئیں، میں نے دیکھا کرتے کے بٹن کھلے ہیں اور انہوں نے کہا: «مثله أو نحوه أو شبيه به» ۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 274 سے 277)
یعنی مارے خوف اور ادب کے ان کا یہ حال تھا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور پھر آخر میں فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا، یا اس جیسا، یا اس کے مشابہ فرمایا، اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔
یعنی مارے خوف اور ادب کے ان کا یہ حال تھا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور پھر آخر میں فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا، یا اس جیسا، یا اس کے مشابہ فرمایا، اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔