سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب في تَقْوَى اللَّهِ: باب: اللہ کے تقویٰ کا بیان
حدیث نمبر: 2760
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَعْلَمُ آيَةً لَوْ أَخَذَ بِهَا النَّاسُ بِهَا لَكَفَتْهُمْ: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسی آیت معلوم ہے اگر لوگ اس پر عمل کر لیں تو وہی ان کیلئے کافی ہے: «﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾» (الطلاق: 2/65) یعنی جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے الله تعالیٰ اس کیلئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2759)
تقویٰ یہ ہے کہ انسان کا الله تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمانِ کامل ہو، اللہ اور رسول کی اطاعت و فرماں برداری میں وہ اچھے کام کرے اور برے کاموں سے بچا رہے۔
تقویٰ کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ دیا ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ﴾ [الأحزاب: 70]» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً تقویٰ کی وصیت کرتے رہتے تھے اور فرماتے: «أُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللّٰهِ» ۔
تقویٰ کے بہت سے فوائد ہیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ الله تعالیٰ متقی کو ہر ہم و غم اور مصیبت و پریشانی سے نجات دیتا ہے، رزق میں کشادگی عطا فرماتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے واضح ہے۔
سورۂ طلاق میں ہی دوسری آیت میں ہے: «﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا﴾ [الطلاق: 4]» جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے الله تعالیٰ اپنے حکم سے اس کے معاملات کو آسان و درست فرما دیتا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کو متقی اور پرہیزگار بنائے، آمین۔
تقویٰ یہ ہے کہ انسان کا الله تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمانِ کامل ہو، اللہ اور رسول کی اطاعت و فرماں برداری میں وہ اچھے کام کرے اور برے کاموں سے بچا رہے۔
تقویٰ کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ دیا ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ﴾ [الأحزاب: 70]» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً تقویٰ کی وصیت کرتے رہتے تھے اور فرماتے: «أُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللّٰهِ» ۔
تقویٰ کے بہت سے فوائد ہیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ الله تعالیٰ متقی کو ہر ہم و غم اور مصیبت و پریشانی سے نجات دیتا ہے، رزق میں کشادگی عطا فرماتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے واضح ہے۔
سورۂ طلاق میں ہی دوسری آیت میں ہے: «﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا﴾ [الطلاق: 4]» جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے الله تعالیٰ اپنے حکم سے اس کے معاملات کو آسان و درست فرما دیتا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کو متقی اور پرہیزگار بنائے، آمین۔