سنن دارمي
من كتاب الرقاق— دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان
باب في حِفْظِ اللِّسَانِ: باب: زبان کی حفاظت کا بیان
حدیث نمبر: 2747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ . قَالَ: "مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ (یعنی مسلمانوں میں کون سب سے بہتر ہے؟) فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2744 سے 2747)
ان تمام احادیث سے زبان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ زبان کے سبب انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے اور زبان کی وجہ سے جہنم رسید ہوتا ہے، اس لئے زبان سے اچھی بات نکلنی چاہے، ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
جھوٹ، غیبت، چغلی، بری بات، گالی گلوج، فحش و گندے گانے اور گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔
مزید فصیل آگے آ رہی ہے۔
ان تمام احادیث سے زبان کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت ہے کہ زبان کے سبب انسان جنت کا مستحق ہوتا ہے اور زبان کی وجہ سے جہنم رسید ہوتا ہے، اس لئے زبان سے اچھی بات نکلنی چاہے، ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
جھوٹ، غیبت، چغلی، بری بات، گالی گلوج، فحش و گندے گانے اور گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرنی لازمی ہے۔
مزید فصیل آگے آ رہی ہے۔