سنن دارمي
من كتاب الاستئذان— کتاب الاستئذان کے بارے میں
باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: باب: جب صبح ہو تو کیا دعا کریں
حدیث نمبر: 2724
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ . قَالَ: "قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ". قَالَ: "قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایئے جب صبح یا شام ہو تو میں کیا کہوں؟ فرمایا: ”کہو: «اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ . . . . . . مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَ شِرْكِهِ» اے الله آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غیب و حاضر کو جاننے والے، ہر چیز کے پروردگار اور مالک، میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تیری پناه مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ”جب صبح اور شام ہو تو تم اس دعا کو پڑھو اور جب بستر پر جاؤ تب پڑھو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2723)
ان احادیث سے ان دعاؤں کا صبح و شام اور سوتے وقت پڑھنے کا ثبوت ملا جو بہت ہی باعثِ خیر و برکت ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں پڑھنے کی توفیق بخشے، آمین۔
ان احادیث سے ان دعاؤں کا صبح و شام اور سوتے وقت پڑھنے کا ثبوت ملا جو بہت ہی باعثِ خیر و برکت ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں پڑھنے کی توفیق بخشے، آمین۔