سنن دارمي
من كتاب الاستئذان— کتاب الاستئذان کے بارے میں
باب في النَّهْيِ عَنِ الْجَرَسِ: باب: گھنٹی رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2711
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رِفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، أَوْ جَرَسٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ان مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ کتا ہو یا گھنٹی ہو۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 2709 سے 2711)
اس حدیث میں بھی فرشتوں کے قریب نہ ہونے سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو گانے، باجے، گھنٹی اور لہو و لعب کی دیگر چیزوں سے دور رہتے ہیں۔
پیچھے گذر چکا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں بھی رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
اس حدیث میں بھی فرشتوں کے قریب نہ ہونے سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو گانے، باجے، گھنٹی اور لہو و لعب کی دیگر چیزوں سے دور رہتے ہیں۔
پیچھے گذر چکا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں بھی رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔