حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ يَعْنِي: أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے تاکہ خود وہاں بیٹھ جائے، ہاں جگہ دے دو یا مجلس میں کشادگی رکھو۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2687)
آدابِ مجلس میں سے ہے کہ جو شخص پہلے جہاں آ کر بیٹھ گیا اسے کسی امیر کبیر کے لئے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے، کیونکہ اس میں بیٹھنے والے کی اہانت و حقارت ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ یہ حکم خاص مجالس کے لئے ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے کہ ان کے لئے کوئی شخص اپنی جگہ چھوڑ دیتا تو وہ کبھی وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2688
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2695]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6269، 6270] ، [مسلم 2177] ، [أبوداؤد 4828] ، [ترمذي 2749] ، [ابن حبان 586] ، [الحميدي 679]