حدیث نمبر: 2685
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ: "أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ" . قَالَ: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا أَوْ فُلَانَةً . قَالَ عَبْد اللَّهِ: فَأَشُكُّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال ڈھال اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا: ”ان زنانے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہجڑے کو نکال باہر کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں یا فلانہ (مرد یا عورت) کو نکال دیا تھا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ شک مجھے ہوا ہے۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 2684)
«"مخنّث"» مرد و عورت کی درمیانی مخلوق ہے جو نہ مرد ہوتے ہیں اور نہ عورت۔
عرفِ عام میں ان کو ہیجڑے کہا جاتا ہے۔
مردوں کا زنانی حرکات اختیار کرنا، بال، کپڑے، چال چلن میں عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا اسی طرح مردوں کی مشابہت اختیار کرنا نہایت مذموم فعل ہے، اور ایسے لوگ بڑے منہ پھٹ، بے غیرت، بے حیاء ہوتے ہیں، اس لئے ان کو گھروں سے باہر نکال دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
آج کل فیشن کے طور پر اسکول کالج کے لڑکے اور لڑکیاں ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ ان مذموم حرکات سے روکتی ہے۔
الله تعالیٰ نے جس جنس کو جیسا بنایا ہے اس کو ویسے ہی رہنا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2685
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2691]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5885، 5886] ، [ترمذي 2785] ، [أبويعلی 2433] ، [شرح السنة 3207]