حدیث نمبر: 2680
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ: ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ: "شِبْرًا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ ؟، قَالَ: "فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن کے بارے میں پوچھا گیا (یعنی کتنا لٹکائیں)؟ فرمایا: ”ایک بالشت (بڑا رکھیں)۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! پھر تو چلتے میں قدم کھل جائیں گے؟ فرمایا: ”پھر ایک ہاتھ لٹکا لیں اس سے زیادہ نہیں۔“
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: کہتے ہیں نافع نے سلیمان بن یسار سے روایت کیا ہے۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 2679)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو اپنا دامن یا عباء نیچی رکھنی چاہیے تاکہ اس کے قدم پر بھی کسی کی نظر نہ پڑے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاستئذان / حدیث: 2680
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن إسحاق ولكنه متابع عليه فيصح الإسناد والله أعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 2686]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ابن اسحاق کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کی متابع موجود ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4117] ، [ترمذي 1732] ، [نسائي 5353] ، [أبويعلی 6891] ، [ابن حبان 5451] ، [موارد الظمآن 1451]