حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مَزْيَدٍ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، تُعْرَفُوا بِهِ، وَاعْمَلُوا بِهِ، تَكُونُوا مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي بَعْدَ هَذَا زَمَانٌ لَا يَعْرِفُ فِيهِ تِسْعَةُ عُشَرَائِهِمْ الْمَعْرُوفَ، وَلَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا كُلُّ نُؤْمَةٍ، فَأُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ، لَيْسُوا بِالْمَسَايِيحِ، وَلَا الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: نُؤَمَةٌ: غَافِلٌ عَنْ الشَّرِّ، الْمَذَايِيعُ: كَثِيرُ الْكَلَامِ، وَالْبُذْرِ: النَّمَّامُونَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم حاصل کرو، اسی کے ذریعہ پہچانے جاؤ گے، اس پر عمل کرو تو اہل علم کہلاؤ گے، بعد میں ایسا زمانہ آئے گا کہ دس میں سے نو آدمی معروف (بھلائی) کو جانیں گے ہی نہیں، اور صرف زاہد ہی اس سے نجات پا سکیں گے، وہی ہدایت کے امام، علم کے چراغ ہیں جو شرارت انگیزی کرنے والے چغل خور نہ ہوں گے۔ ابومحمد نے کہا کہ «نؤمة» برائی سے غافل اور «المذاييع» بہت زیادہ بات کرنے والے کو کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 264
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): رجاله ثقات غير أنه منقطع أوفى بن دلهم لم يسمع عليا فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 265]
تخریج حدیث اس روایت میں انقطاع ہے، لیکن اس کے رجال ثقہ ہیں، تخریج کے لئے دیکھئے: [الزهد لأحمد ص:103] و [شعب الإيمان 9670]