سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَا أُكْرِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَفْجِيرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ: باب: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکال کر آپ کو جو تکریم عطا کی اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ ؟"، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى، بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، لَيْسَ فِي الْقَوْمِ مَاءٌ غَيْرُهُ،"فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَدَحَ"، فَرَكِبَ النَّاسُ ذَلِكَ الْقَدَحَ، وَقَالُوا: تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى رِسْلِكُمْ"حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ،"فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ"، وَقَالَ: "بِسْمِ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ: "أَسْبِغُوا الطُّهُورَ"، فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ، عُيُونَ الْمَاءِ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَلَمْ يَرْفَعْهَا حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ.سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرنے نکلے اس وقت ہماری تعداد 210 سے زائد تھی، نماز کا وقت آ پہنچا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگوں کے پاس کچھ پانی ہے؟“ ایک آدمی ایک ڈولچی لے کر دوڑتا آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا، لوگوں کے پاس اس کے سوا بالکل پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک بڑے پیالے میں انڈیل دیا، پھر آپ نے اس سے خوب اچھی طرح وضو فرمایا اور وہاں سے ہٹ گئے اور وہ پیالہ وہیں چھوڑ دیا، لوگ اس پیالے پر یہ کہتے ہوئے ٹوٹ پڑے، نہا لو نہا لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ کہتے سنا تو فرمایا: ”ٹھہرو“، پھر آپ نے اپنی ہتھیلی پانی اور پیالے پر رکھ دی اور فرمایا: ”بسم اللہ کرو“، پھر فرمایا: ”اچھی طرح طہارت حاصل کرو۔“ راوی نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے آنکھوں کی مصیبت میں مبتلا فرمایا، میں نے پانی کے ان چشموں کو دیکھا جو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کو ہٹایا نہیں تا آنکہ سب کے سب وضوء سے فارغ ہو گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
قبل ازیں حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی حدیث میں تھاکہ رسول اللہ ﷺ نے کنویں سے پانی کا ڈول منگوایا، اس سے کلی کی، پھر دعا فرمائی اور اسے کنویں میں ڈال دیا جبکہ حدیث جابر ؓ میں ہے کہ آپ نے پانی کے برتن میں ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں سے چشمے کی طرح پانی اُبلنے لگا دراصل کئی ایک مواقع ہیں جہاں پانی کے متعلق معجزات کا ظہور ہوا۔
ان میں سےایک واقعہ حضرت جابر ؓ نے بیان کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نماز عصر کے وقت پانی نہیں تھا، صرف ایک برتن میں تھوڑا سابچا ہوا پانی تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈال کر اپنی انگلیوں کوپھیلادیا اور فرمایا: ’’وضو کرنےوالو! اللہ کی طرف سے اس میں برکت ڈال دی گئی ہے،آؤ اس سے وضو کرلو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأشربة، حدیث: 5639)
اس کی تفصیل مسند احمد میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت ایک آدمی تھوڑا سا پانی لے کرآیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے بڑے ٹب میں ڈالا، اس سے وضو کرنے کے بعد اسے کچھ وقت کے لیے چھوڑدیا گیا، لوگ وضو کرنے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑے تو آپ نے انھیں آرام وسکون اختیار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ نے ہاتھ رکھ دیا توآپ کی انگلیوں کے درمیان سےپانی نکلنے لگا، آپ نے فرمایا: ’’اچھی طرح کرلو۔
‘‘ (مسند أحمد: 358/3۔
)
2۔
حافظ ا بن حجر ؒ نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں مبارک سے پانی پھوٹنے لگا تو لوگوں نےخوب سیر ہوکر پیا اور اس وضو کیا۔
اس وقت جو پانی بچ گیاتھا اس آپ نے پانی میں پھینک دیا تو وہ بھی پانی کی کثرت سے جوش مارنے لگا، اس طرح حضرت براء اورحضرت جابر ؓ کے دونوں واقعات کو ایک ہی قراردیا جا سکتاہے۔
(فتح الباري: 551/7)
واللہ اعلم۔
یہ آپ کا معجزہ تھا۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
1۔
حدیبیہ ایک مقام ہے جوحرم مکہ کی مغربی حدہے۔
مکہ مکرمہ سے کوئی دس میل اور جدہ سے کوئی تیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
وہاں ایک کبڑا درخت تھا جس کی وجہ سے اس مقام کا یہ نام رکھا گیا۔
رسول اللہ ﷺ عمرہ کرنے کی غرض سے مہاجرین وانصار اور دیگرقبائل کے ہمراہ نکلے تھے لیکمن مقام حدیبیہ پر آپ کو روک لیا گیا۔
یہ واقعہ ذوالقعدہ چھ ہجری میں پیش آیا۔
2۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ایک عظیم معجزے کاذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری کردیا۔
پھر پانی کی کیا کمی تھی۔
حضرت جابر ؓکے کہنے کے مطابق وہ ایک لاکھ کی تعداد کو سیراب کرنے کے لیے کافی تھا۔
واللہ أعلم۔
معجزہ نبوی کی برکت سے یہ پانی اس قدر بڑھا کہ پندرہ سو اصحاب کرام کو سیراب کر گیا۔
اور حصین کی روایت کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مغازی میں اورعمرو بن مرہ کی روایت کو مسلم اورامام احمد بن حنبل نے وصل کیا۔
قسطلانی نے کہا کہ اس مقام پر صحیح بخاری کے تین ربع ختم ہو گئے اور آخری چوتھا ربع باقی ہے۔
یا اللہ! جس طرح تو نے یہ تین ربع پورے کرائے ہیں اس چوتھے ربع کو بھی میری قلم سے پورا کرا دے تیرے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔
یا اللہ! میری دعا قبول فرما لے اور جن بھائیوں نے تیرے پیارے نبی کے کلام کی خدمت کی ہے ان کو دنیا و آخرت میں بے شمار برکتیں عطا فرما اور ہم سب کو بخش دیجیو۔
آمین یا رب العالمین (راز)
(1)
پانی میں اسراف اگرچہ ممنوع ہے لیکن بابرکت اشیاء کے کھانے پینے میں اسراف ممنوع نہیں ہے۔
اسے زیادہ مقدار میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں اور نہ اس سے کوئی کراہت ہی کا پہلو نکلتا ہے۔
(2)
عام حالات میں پیٹ کا تیسرا حصہ پانی کے لیے ہونا چاہیے لیکن بابرکت پانی پینے میں یہ پابندی نہیں ہے کیونکہ برکت کی ضرورت سیرابی سے زیادہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس امر کی اطلاع تھی لیکن آپ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو منع نہیں کیا۔
(فتح الباري: 127/10)
اس حدیث میں بیعت رضوان کا ذکر ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلنے کے وقت ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی۔ اس حدیث سے مجاہدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔