حدیث نمبر: 2580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ، وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر سے مال لانے والا روزی دیا جائے گا اور ذخیرہ کر کے رکھنے والے پر لعنت کی جائے گی۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2579)
ذخیرہ اندوزی کرنے کی ممانعت اور بھی دیگر کئی احادیثِ صحیحہ میں آئی ہے، اور مذکورہ بالا حدیث میں احتکار کرنے والے پرلعنت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو احتکار حرام ہے وہ غلہ و اناج کا احتکار ہے ان شروط کے ساتھ جو اوپر ذکر کی گئی ہیں، یعنی غلہ کی قلت ہو یا ملتا ہی نہ ہو اور لوگوں کو اس کی ضرورت ہو، اور پھر بند کر کے رکھے کہ اور گرانی ہو جائے گی تب بیچیں گے تو یہ حرام ہے، کیونکہ اپنے ذرا سے فائدے کے لئے لوگوں کو تکلیف و ایذا دیتا ہے، اور لوگوں کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب البيوع / حدیث: 2580
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2586]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند علی بن زید بن جدعان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2153] ، [عبد بن حميد 33] ، [البيهقي 30/6] ، [الحاكم 11/2]