سنن دارمي
من كتاب السير— سیر کے مسائل
باب: «لاَ حِلْفَ في الإِسْلاَمِ»: باب: اسلام میں ظلم و ستم کا عہد و پیمان نہیں ہے
حدیث نمبر: 2562
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لِشَرِيكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ . قَالَ: نَعَمْ "لا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْحِلْفُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً وَحِدَّةً".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، شریک سے کہا گیا: کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی؟ کہا: ہاں، اسلام میں عہد و پیمان نہیں ہے (یعنی ایسا معاہدہ کہ ظلم و ستم اور حق بات ہر دو حالت میں مدد کریں گے) اور جاہلیت میں جو عہد و پیمان ہوتے تھے اسلام نے اس میں سختی و سنجیدگی زیادہ کی ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2561)
اپنا حق لینے یا اپنی جان و مال کا دفاع کرنے پر عہد و پیمان درست ہے، لیکن کوئی ظلم کرے، زبردستی کسی کا مال ہڑپ کرے، قتل و غارتگری کرے تو اس طرح کا عہد و پیمان اور معاہدہ اسلام میں جائز نہیں۔
اپنا حق لینے یا اپنی جان و مال کا دفاع کرنے پر عہد و پیمان درست ہے، لیکن کوئی ظلم کرے، زبردستی کسی کا مال ہڑپ کرے، قتل و غارتگری کرے تو اس طرح کا عہد و پیمان اور معاہدہ اسلام میں جائز نہیں۔