حدیث نمبر: 2561
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ”غفار الله تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور قبیلہ عصیہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2560)
قبیلہ غفار کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا، اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کر دیا تھا۔
اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع بڑے قبائل تھے، ان کے اسلام لانے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قبیلے خود بخود مشرف بالاسلام ہوئے اس لئے بھی ان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2561
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2567]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3513] ، [مسلم 2518] ، [ترمذي 3941] ، [ابن حبان 7289] ، [شرح السنة للبغوي 3851، 3852]