حدیث نمبر: 2551
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَغْلُولَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، أَطْلَقَهُ الْحَقُّ أَوْ أَوْبَقَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بھی دس آدمی پر امیر و حاکم ہے اس کو قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوں گے، حق اس کو چھوڑ دے یا ہلاکت میں ڈال دے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2550)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکومت اور افسر شاہی بڑی خطرناک چیز ہے۔
کوئی بھی عہدہ ملنے کے بعد اگر وہ عہدے دار حق و انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرے تو خیر ورنہ وہی حال ہوگا جو اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2551
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2557]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 6570] ، [مجمع الزوائد 7079]