حدیث نمبر: 254
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا، وَلَا تَكُنِ الرَّابِعَ فَتَهْلِكَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عالم بنو یا متعلم یا پھر مستمع رہو اور چوتھے آدمی نہ بنو کہ ہلاک ہو جاؤ۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 245 سے 254)
اس میں عالم، متعلم اور مستمع کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور چوتھا آدمی نہ بننے کی تلقین ہے کیونکہ اس سے ہلاکت کا خطرہ ہے۔
اس میں عالم، متعلم اور مستمع کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور چوتھا آدمی نہ بننے کی تلقین ہے کیونکہ اس سے ہلاکت کا خطرہ ہے۔