حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ: "لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انعامات کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”قوی (طاقتور) مسلمان کو مالِ غنیمت ضعیف مسلمان کے لئے پھیر دینا چاہیے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2521)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مالِ غنیمت میں سب مسلمان برابر کے شریک ہوں گے اور برابر حصہ پائیں گے، جو لوگ قوی ہوں اور زیادہ جنگ کریں وہ دوسرے ضعیف لوگوں سے زیادہ کچھ نہ پائیں گے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند فرماتے تھے، گرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات خاص افراد اور جماعت کو انعامات سے بھی نوازا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2522
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2529]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2853]