سنن دارمي
من كتاب السير— سیر کے مسائل
باب مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ: باب: جو شخص کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کو دیا جائے
حدیث نمبر: 2521
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ: عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: "بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک کافر مرد سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان مجھے عطا فرما دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2519 سے 2521)
مقتول کے سامان سے مراد اس کے کپڑے، ہتھیار، سواری وغیرہ ہیں۔
امام کو اختیار ہے کہ حالتِ جنگ میں رغبت دلانے کے لئے ایسا انعام مقرر کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی بھی کسی کافر کا کام تمام کرے گا اس کا سامان بھی اسی کو ملے گا، اور یہ مالِ غنیمت کے علاوہ ہے۔
بعض فقہاء نے کہا: یہ حکم دائمی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حکم دائمی نہیں ہے۔
(واللہ اعلم)۔
مقتول کے سامان سے مراد اس کے کپڑے، ہتھیار، سواری وغیرہ ہیں۔
امام کو اختیار ہے کہ حالتِ جنگ میں رغبت دلانے کے لئے ایسا انعام مقرر کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی بھی کسی کافر کا کام تمام کرے گا اس کا سامان بھی اسی کو ملے گا، اور یہ مالِ غنیمت کے علاوہ ہے۔
بعض فقہاء نے کہا: یہ حکم دائمی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حکم دائمی نہیں ہے۔
(واللہ اعلم)۔