حدیث نمبر: 2515
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ كَانَ فِي جَيْشٍ فَفُرِّقَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَبَيْنَ أُمَّهَاتِهِمْ، فَرَآهُمْ يَبْكُونَ، فَجَعَلَ يَرُدُّ الصَّبِيَّ إِلَى أُمِّهِ . وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ایک لشکر میں تھے کہ بچوں اور ان کی ماؤں کو جدا کر دیا گیا، انہوں نے بچوں کو دیکھا تو وہ رو رہے تھے، لہٰذا ہر بچے کو اس کی ماں کے پاس واپس لوٹا دیا اور وہ کہتے تھے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جدا کر دیا ماں کو اس کی اولاد سے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے دوستوں سے الگ کردے گا۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2514)
اس حدیث سے ماں بیٹوں کے درمیان جدائی کی ممانعت ثابت ہوئی، خواہ وہ غلام ہوں یا قیدی، نہ قید میں انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہیے اور نہ بیع و شراء میں، حدیث کا منطوق اسی پر دلالت کرتا ہے۔
والله اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2515
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2522]
تخریج حدیث اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1283، 1566] ، [أحمد 412/5] ، [الحاكم 55/2]