سنن دارمي
من كتاب السير— سیر کے مسائل
باب في النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ: باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2512
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمْيَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، وَمَكْحُولٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَم".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصوں کو تقسیم سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2511)
حصے تقسیم ہونے سے پہلے بیچنے سے غالباً اس لئے منع فرمایا کہ بیع مجہول ہے، نہ تعداد کا پتہ، نہ جنس و سامان کا علم، پھر بیع و شراء کیسے درست ہو سکتی ہے؟
حصے تقسیم ہونے سے پہلے بیچنے سے غالباً اس لئے منع فرمایا کہ بیع مجہول ہے، نہ تعداد کا پتہ، نہ جنس و سامان کا علم، پھر بیع و شراء کیسے درست ہو سکتی ہے؟