حدیث نمبر: 250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَتَدْرِي كَيْفَ يُنْقَصُ الْعِلْمُ ؟، قَالَ: قُلْتُ: كَمَا يُنْفَضُ الثَّوْبُ، وَكَمَا يَقْسُو الدِّرْهَمُ، قَالَ: "لَا، وَإِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ، قَبْضُ الْعِلْمِ: قَبْضُ الْعُلَمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو علم کیسے کم ہو گا؟ راوی نے کہا: جیسے کپڑا سکڑتا ہے اور درہم کھوٹا ہو جاتا ہے۔ فرمایا: نہیں، یہ بھی ایسا ہی ہے لیکن علم کا قبض ہونا علماء کا قبض ہونا ہے۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 250
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): في إسناده محمد بن أسعد منكر الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 250]
تخریج حدیث اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے اور اس کو صرف امام دارمی نے روایت کیا ہے لیکن معنی صحیح ہے۔ «(كما مر)»