سنن دارمي
من كتاب السير— سیر کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ: باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2498
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ"فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض غزوات میں ایک عورت ملی جس کو قتل کیا گیا تھا، چنانچہ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2497)
یہ اسلام کا نظامِ رحمت اور پیغمبرِ اسلام، محسنِ انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت ہے کہ عورت کی اتنی تکریم کی کہ مدِ مقابل ہونے کے باوجود اس کے قتل سے منع فرما دیا، اسی طرح بے قصور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔
یہ اسلام کا نظامِ رحمت اور پیغمبرِ اسلام، محسنِ انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت ہے کہ عورت کی اتنی تکریم کی کہ مدِ مقابل ہونے کے باوجود اس کے قتل سے منع فرما دیا، اسی طرح بے قصور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔