سنن دارمي
من كتاب الجهاد— کتاب جہاد کے بارے میں
باب في فَضْلِ الرَّمْيِ وَالأَمْرِ بِهِ: باب: تیر اندازی کی فضیلت اور اس کا حکم
حدیث نمبر: 2441
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 أَلَا إِنَّ "الْقُوَّةَ: الرَّمْيُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ شریفہ تلاوت کی (ترجمہ): ”تیار کرو کافروں کے لئے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت، سنو: قوت سے مراد ہے: تیر اندازی کرنا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2440)
یعنی دشمنوں کے مقابلے کیلئے ہمیشہ اپنی طاقت و قوت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت مستعد رہو، اس سے غفلت نہ برتو کیونکہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے اور ہلاکت و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔
اس حدیث میں فنِ سپاہ گری اور ہتھیار چلانے کی ترغیب ہے، اب تیر کے عوض بندوق، توپ اور دیگر آلاتِ حرب کی ٹریننگ ہے جس کا سیکھنا ضروری ہے تاکہ وقتِ ضرورت کام آوے۔
یعنی دشمنوں کے مقابلے کیلئے ہمیشہ اپنی طاقت و قوت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت مستعد رہو، اس سے غفلت نہ برتو کیونکہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے اور ہلاکت و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔
اس حدیث میں فنِ سپاہ گری اور ہتھیار چلانے کی ترغیب ہے، اب تیر کے عوض بندوق، توپ اور دیگر آلاتِ حرب کی ٹریننگ ہے جس کا سیکھنا ضروری ہے تاکہ وقتِ ضرورت کام آوے۔