سنن دارمي
من كتاب الديات— دیت کے مسائل
باب: «لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْراً»: باب: قبیلہ قریش کا کوئی آدمی باندھ کر نہ مارا جائے
حدیث نمبر: 2423
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، عَنْ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"۔ .محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ نے کہا: فتح مکہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کے بعد کوئی قریشی قیامت تک باندھ کر نہ مارا جائے گا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2422)
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اسلام لائے، ان کا نام عاصی یعنی نافرمان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مطیع نام رکھدیا، جس کے معنی فرمانبردار کے ہیں، حدیث کی تشریح آگے آ رہی ہے۔
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اسلام لائے، ان کا نام عاصی یعنی نافرمان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مطیع نام رکھدیا، جس کے معنی فرمانبردار کے ہیں، حدیث کی تشریح آگے آ رہی ہے۔