سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَا أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِيمَانِ الشَّجَرِ بِهِ وَالْبَهَائِمِ وَالْجِنِّ: باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُرِيكَ آيَةً"، قَالَ: بَلَى، قَالَ: "فَاذْهَبْ فَادْعُ تِلْكَ النَّخْلَةَ"، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَنْقُزُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا تَرْجِعْ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْجِعِي"، فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ: يَا بَنِي عَامِرٍ، مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَالْيَوْمِ أَسْحَرَ مِنْهُ !.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنوعامر کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ایک نشانی دکھاؤں؟“ اس نے کہا دکھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”جاؤ اس کھجور کے درخت کو بلاؤ“، چنانچہ وہ شخص گیا اور اس درخت کو بلایا تو وہ (درخت) ان سے آگے آگے کودتا ہوا چلا آیا، اس شخص نے کہا (اس سے کہئے) لوٹ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ“، چنانچہ وہ درخت اپنی جگہ واپس چلا گیا تو بنوعامر کے اس آدمی نے کہا: اے بنی عامر میں نے آج تک ان سے بڑا جادوگر دیکھا ہی نہیں۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ کہ درخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتے اور حکم بجا لاتے ہیں۔ کفار و مشرکین کا عناد کہ اطاعت و صداقت قبول کرنے کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر گردانتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟ “ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ (ٹہنی) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: ” لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3628]
نوٹ:
(لیکن (فأسلم الأعرابي) کا لفظ ثابت نہیں ہے، سند میں محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاری ہیں، اور محمد بن سعید بن سلیمان الکوفی ابوجعفر ثقہ ہیں، لیکن شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، فأسلم الأعرابي یعنی اعرابی مسلمان ہو گیا، کا جملہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، الصحیحة: 3315)