حدیث نمبر: 2388
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ: الْجُرْحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ، فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ: بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوشرح خزاعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس شخص کا خون کیا جائے یا وہ زخمی کیا جائے تو اس کو (یا اس کے وارث کو) تین باتوں میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کا اختیار ہے، اگر وہ چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کو روکو، وہ تین باتیں یہ ہیں، یا تو قصاص (قتل کے بدلے قتل) طلب کرے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، ان تین باتوں میں سے کوئی ایک اختیار کرے پھر چوتھی بات زیادہ کرے تو اس (وارث یا والی) کے لئے جہنم کی آگ ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الديات / حدیث: 2388
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف وهو حديث منكر، [مكتبه الشامله نمبر: 2396]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف اور حدیث منکر ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4496] ، [ابن ماجه 2623] ، [ابن أبي شيبه 8045] ، [دارقطني 96/3] ، [البيهقي فى معرفة السنن و الآثار 15885، وغيرهم]