سنن دارمي
من النذور و الايمان— نذر اور قسم کے مسائل
باب مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْراً مِنْهَا: باب: کوئی آدمی قسم کھائے اور پھر وہی کام اسے بہتر لگے تو کیا کرے ؟
حدیث نمبر: 2382
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ: ابْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو زَمَنَ الْجَمَاجِمِ يُحَدِّثُ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عمرو نے معرکہ جماجم کے دوران حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مدد مانگی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ اس کو کچھ نہیں دیں گے، پھر کہا: کاش میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ”کوئی آدمی قسم کھا لے کسی چیز پر پھر اس کے غیر میں بھلائی سمجھے تو پہلے جو کام بہتر ہے اس کو کرے پھر اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2381)
یعنی قسم کھائی کہ: اللہ کی قسم! اس شخص کی مدد نہ کرونگا، پھر خیال آیا کہ مدد کرنا اچھا ہے، تو اس آدمی کی پہلے مدد کرے یعنی قسم توڑ دے اور پھر اس قسم کا کفارہ ادا کرے۔
یعنی پہلے قسم توڑ دے پھر کفارہ دے۔
یعنی قسم کھائی کہ: اللہ کی قسم! اس شخص کی مدد نہ کرونگا، پھر خیال آیا کہ مدد کرنا اچھا ہے، تو اس آدمی کی پہلے مدد کرے یعنی قسم توڑ دے اور پھر اس قسم کا کفارہ ادا کرے۔
یعنی پہلے قسم توڑ دے پھر کفارہ دے۔