سنن دارمي
من كتاب الاحدود— حدود کے مسائل
باب الْحَفْرِ لِمَنْ يُرَادُ رَجْمُهُ: باب: رجم کرنے کا ارادہ ہو تو گڑھا کھود لیا جائے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَرَدَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَاعْتَرَفَ، "فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ".عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد (سیدنا بریده رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جب وہ شخص آیا جس کا نام ماعز بن مالک تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کرنے کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تین بار رد کر دیا، پھر وہ چوتھی بار آیا اور اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس کیلئے گڑھا کھودا گیا جو ان کے سینے تک تھا، اس میں انہیں اتار دیا گیا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کریں، چنانچہ لوگوں نے انہیں اس طرح مار ڈالا۔
اس حدیث میں ہے کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لئے گڑھا کھودا گیا تھا لیکن اوپر والی روایت اس سے قوی اور اصح ہے، اس لئے یہی قول راجح اور صحیح معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لئے گڑھا کھودنا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔