أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا بِمَكَانِي هَذَا، فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي الْيَوْمَ فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْبَلَدِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْقُلُوبَ لَا تُغِلُّ عَلَى ثَلَاثٍ: إِخْلَاصِ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةِ أُولِي الْأَمْرِ، وَعَلَى لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ".محمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں سنا: ”اے لوگو! بیشک میں نہیں جانتا کہ آج کے بعد اس مقام پر پھر تم سے ملاقات کر سکوں گا، پس اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جس نے آج میری بات سنی اور اسے یاد کر لیا، کچھ فقہ کو سیکھنے والے (خود فقیہ نہیں) جان نہیں پاتے، اور بہت سے حامل فقہ لیجاتے ہیں فقہ کو اپنے سے زیادہ فقیہ کے پاس۔ اور اے لوگو! جان لو کہ تمہارے مال اور خون آج کے دن کی، اس مہینے، اور اس شہر کی حرمت کی طرح ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ اور سنو! دل تین چیزوں پر خیانت نہ کریں گے، اللہ کے لئے عمل خالص، حکام کے ساتھ خیر خواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے میں، بیشک ان کی دعا ان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (یعنی دعا آفات وبلیات سے حفاظت کے لیے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔)“
اس میں اہلِ حدیث کے لئے دعائے خیر ہے۔
علامہ بدیع الزماں نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقہ نام ہے حدیث کا، اس کی جانکاری اور تحقیق سے آدمی عند الله فقیہ ہوتا ہے، اور بشارت ہے اس میں کہ بعد زمانۂ صحابہ کے تابعین میں بکثرت فقہاء ہوں گے اور احادیث جمع کریں گے۔
دیکھئے شرح آگے آنے والی حدیث «نَضَّرَ اللّٰهُ إِمْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا.»
تشریح، فوائد و مسائل
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
فوائد و مسائل:
(1)
فقہ کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔
جس اجتہاد کی بنیاد قرآن وحدیث پر نہیں وہ اجتہاد قابل اعتماد نہیں۔
(2)
علمی مسائل دوسروں تک پہنچانے چاہیں۔
(3)
دین کا علم اس شخص سے بھی حاصل کرلینا چاہیے جو بظاہر علم عمر مرتبے میں کم تر ہو۔
بعض اوقات اس سے ایسا علمی نکتہ مل جاتا ہے کہ جو بڑے علماء سے نہیں ملتا۔
(4)
علم و تفقہ کی کوئی حد نہیں۔
ممکن ہے بعد میں آنے والے کسی شخص کو وہ اجتہادی اور علمی نکتہ سمجھ میں آجائے۔
جس کی طرف پہلے گزرجانے والے بڑے علماء کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔
(5)
مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور کوتاہی نہیں کرتا۔
(6)
مومن کی مومن سے خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔
خواہ دوست یا رشتہ دار ہوں یا اجنبی خواہ ہم وطن ہوں یا دوسرے علاقوں میں رہائش پزیر ہوں۔
(7)
جو شخص دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے۔
اسے بھی دوسروں کی دعائیں پہنچتی ہیں۔ (مزید دیکھیے فوائدومسائل: حدیث: 230)