حدیث نمبر: 23
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، وَقَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً ؟، قَالَ: "نَعَمْ، فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ"، فَقَالَ: ادْعُ بِهَا، فَدَعَا بِهَا، فَجَاءَتْ وَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حَسْبِي حَسْبِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اہل مکہ قریش کے ستائے ہوئے، خون سے لت پت، اداس و غمگین بیٹھے ہوئے تھے، جبرئیل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو (اللہ کی قدرت کی) ایک نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھلاؤ“، چنانچہ جبرئیل علیہ السلام نے ایک درخت کی طرف دیکھا جو ان کے پیچھے تھا اور کہا اسے بلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلایا پس وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: اسے حکم دیجئے کہ واپس چلا جائے، چنانچہ وہ لوٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس بس“ (یعنی یہ نشانی میرے لئے کافی ہے)۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 23)
اس حدیث سے ثابت ہوا: ❀ نبی ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اذیتیں برداشت کرنا، صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا۔
❀ جبریل علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا اور پیغام رسانی کا کام سرانجام دینا۔
❀ درخت کا چل کر آنا بہت بڑا معجزہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 23]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کو [امام أحمد 113/3] ، [ابن ابي شيبة 11781] ، [ابن ماجه 4028] ، [وابويعلي 3685] نے روایت کیا ہے۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4028

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4028 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4028]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد کے محققین اس کی بابت لکھتےہیں کہ مذکورہ روایت کی سند قوی ہےاور مسلم کی شرط پرہے نیز شیخ البانی اور دکتور بشار عواد وغیرہ نے بھی اسے صحیح قراردیا ہے جس سے تصحیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تتفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19 165، 166 وصحيح سنن ابن ماجة للألباني رقم: 3270 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4028)

(2)
یہ واقعہ دور مکی کا ہے۔
ممکن ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کسی بڑی عمر کے صحابی سے سنا ہو یا خود رسول اللہﷺ نے سنایا ہو۔

(3)
درخت کا نبی ﷺ کے حکم سے حرکت کرنا معجزہ ہے۔
یہ معجزہ دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالی کے ہاں رسول اللہﷺ کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے لیکن کچھ خاص حکمتوں کی وجہ سے کچھ تکلیفیں برداشت کرنا ضروری ہے۔

(4)
اس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی بھی تھا کہ اللہ کی ہر مخلوق آپﷺ کےساتھ اور آپﷺ پر ایمان رکھنے والی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4028 سے ماخوذ ہے۔