سنن دارمي
من كتاب النكاح— نکاح کے مسائل
باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ}: باب: فرمانِ باری تعالی : «لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ» کا بیان
حدیث نمبر: 2278
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: الله تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے یہ بات حلال کر دی تھی کہ آپ جس عورت سے چاہیں نکاح کر لیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2276 سے 2278)
پہلے الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ اب تم کو زیادہ عورتیں کرنا درست نہیں: «﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ .....﴾ [الأحزاب: 52]» نہ ان عورتوں کے بدلے اور عورتیں آپ کے لئے حلال ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ حکم منسوخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی کہ جتنی عورتیں چاہیں نکاح میں لائیں۔
(وحیدی)۔
پہلے الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ اب تم کو زیادہ عورتیں کرنا درست نہیں: «﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ .....﴾ [الأحزاب: 52]» نہ ان عورتوں کے بدلے اور عورتیں آپ کے لئے حلال ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ حکم منسوخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی کہ جتنی عورتیں چاہیں نکاح میں لائیں۔
(وحیدی)۔