سنن دارمي
من كتاب النكاح— نکاح کے مسائل
باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ}: باب: فرمانِ باری تعالی : «لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ» کا بیان
حدیث نمبر: 2277
حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَمَّى: زِيَادًا، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْنَ، كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ ؟ قَالَ: "نَعَمْ، إِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ ضَرْبًا مِنَ النِّسَاءِ، وَوَصَفَ لَهُ صِفَةً"، فَقَالَ: "لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ، مِنْ بَعْدِ هَذِهِ الصِّفَةِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
انصار کے ایک شخص نے جن کا نام زیاد تھا کہا: میں نے سیدنا ابی کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں وفات پا جائیں تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شادی کرنا جائز ہو گا ؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں «﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ ......﴾» [احزاب: 52/33] عورتوں کی صنف کو جائز کیا ہے اور اس کا وصف بیان کیا ہے، اور اس کا بیان کیا کہ آپ کے لئے بعد میں اور عورتیں حلال نہیں ہیں یعنی اس صفت کے بعد۔