أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّه، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ: فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّه: الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّه، الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ".ابن جابر بن عتیک نے کہا: میرے والد نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت کو اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک قسم کی غیرت کو الله تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، اور جس غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان شک کی جگہ غیرت کرے (جیسے اس کی عورت سے کوئی تنہائی میں ہنسی مذاق کرے تو اسے غیرت آ جائے) اور وہ غیرت جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں وہ یہ ہے کہ بلا شک (اور قرائن) کے بلاوجہ غیرت کرے (جیسے کوئی آدمی اس کے گھر سے نکلے اس کو بلا تحقیق کئے غیرت سے مار ڈالے)۔“
تہمت کی جگہ میں غیرت کرنا یعنی جہاں بدنامی کا خوف ہو، جیسے شراب خانے میں بیٹھنا، غیر محرم عورت کے ساتھ تنہا رہنا، جب انسان غیرت کرے گا تو گناہوں سے بچے گا، بے غیرتی لاد لے گا تو کچھ کرے یا ہوتا رہے اس کو فکر نہ ہوگی۔