سنن دارمي
من كتاب النكاح— نکاح کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ: باب: عورتوں ، بیویوں کو مارنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ ذَئِرْنَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ لَهُمْ، فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ".سیدنا عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو مت مارو“، (یعنی بیویوں کو) پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: (اس حکم سے) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں (یعنی زبان درازی اور شرارت پر آمادہ ہیں)، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیویوں کو مارنے کی اجازت دیدی، پھر بہت سی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئیں، اپنے خاوندوں کے گلے شکوے کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سی عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس اپنے خاوندوں کی شکایت و گلہ کرتی ہیں۔ یہ لوگ (یعنی جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں) اچھے نہیں ہیں۔“