حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ايم» شوہر دیدہ عورت اپنے (دوبارہ نکاح کے بارے میں) اپنے ولی سے زیادہ اپنے بارے میں حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے مشورہ کیا جائے گا اس کے نفس (شادی) کے بارے میں، اور اس کا چپ رہنا اس کی اجازت ہے۔“

وضاحت:
(تشریح احادیث 2223 سے 2225)
یعنی ثیبہ عورت کا حجاب کھل جاتا ہے شادی کے بعد، اب اگر دوسری بار اس کی شادی کرنی ہے تو اس سے مشورہ کیا جائے گا اور وہ صراحت سے نکاح کی اجازت دے تو اس کا نکاح کیا جائے گا ورنہ نہیں، ولی بھی اس کو مجبور نہیں کر سکتا، لیکن کنواری لڑکی صراحت سے شرماتی ہے اس لئے اس کا چپ رہنا ہی اس کی اجازت مانی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب النكاح / حدیث: 2225
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده قوي وهو عند مالك في النكاح، [مكتبه الشامله نمبر: 2234]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1421] ، [أبوداؤد 2098، 2100] ، [نسائي 3220] ، [ابن ماجه 2189] ، [ابن حبان 4084] ، [الحميدي 527] ، [سعيد بن منصور 556] ، [الطحاوي شرح معاني الآثار 11/3 و 366/4]