حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شريك، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "سُنَّتُكُمْ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بَيْنَهُمَا: بَيْنَ الْغَالِي وَالْجَافِي، فَاصْبِرُوا عَلَيْهَا رَحِمَكُمْ اللَّهُ، فَإِنَّ أَهْلَ السُّنَّةِ كَانُوا أَقَلَّ النَّاسِ فِيمَا مَضَى، وَهُمْ أَقَلُّ النَّاسِ فِيمَا بَقِيَ: الَّذِينَ لَمْ يَذْهَبُوا مَعَ أَهْلِ الْإِتْرَافِ فِي إِتْرَافِهِمْ، وَلَا مَعَ أَهْلِ الْبِدَعِ فِي بِدَعِهِمْ، وَصَبَرُوا عَلَى سُنَّتِهِمْ حَتَّى لَقُوا رَبَّهُمْ، فَكَذَلِكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكُونُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہاری سنت (کی پیروی) غلو کرنے والے یا اعراض کرنے والے کے مابین ہے، پس تم اس درمیانی راستے کو اپناؤ اللہ تم پر رحم فرمائے، پچھلے زمانے میں بھی سنت کے شیدائی لوگوں میں سب سے کم تھے اور آنے والے باقی زمانے میں بھی سب سے کم ہوں گے، جنہوں نے سرکش لوگوں کی ان کی سرکشتی میں، اور بدعتیوں کی ان کی بدعت میں پیروی نہیں کی، اور اپنے سنت طریقے پر جمے رہے یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے، سو تم بھی اللہ کے حکم سے انہیں کی طرح ہو جاؤ۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 222
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف المبارك بن فضالة يدلس ويسوي وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 222]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الباعث لأبي شامة ص: 26]