حدیث نمبر: 2197
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "أَكْرَهُ الْغُلَّ، وَأُحِبُّ الْقَيْدَ، الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں گلے میں زنجیر و طوق کو (خواب میں دیکھا جانا) برا جانتا ہوں، اور پاؤں میں بیڑی (زنجیر) کا دیکھا جانا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے مراد آدمی کا دین پر قائم اور مضبوطی سے ثابت قدم رہنا مراد ہے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2196)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زنجیر اور طوق کا گلے میں دیکھا جانا اس لئے ناپسند فرماتے تھے کیونکہ یہ جہنمی لوگوں کی علامت ہے، جیسا کہ آیتِ شریفہ: «﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ﴾ [المؤمن: 71]» "جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی، وہ گھسیٹے جائیں گے۔
" لہٰذا کوئی شخص گلے میں زنجیر و طوق دیکھے تو یہ اچھی علامت نہیں ہے، ہاں اگر پیروں میں کوئی شخص بیڑیاں لگی دیکھے تو یہ اس کے دین پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرويا / حدیث: 2197
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2206]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7017] ، [مسلم 2263] ، [ابن ماجه 3926] ، [ابن حبان 6040] ۔ نیز دیکھئے: [الفصل و الوصل للخطيب 211/1]