حدیث نمبر: 2184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "لَا تَقُصُّوا الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ، أَوْ نَاصِحٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ بیان کرو خواب کو مگر عالم اور خیر خواہ سے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2183)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنا خواب جاہل، بے وقوف، نادان اور عداوت رکھنے والے سے نہ کہنا چاہیے۔
[ترمذي 2280] میں ہے کہ انسان کا خواب مانند پرندے کے ہے جب تک اس کی تعبیر نہ پوچھے، اور جب کوئی اس خواب کو بیان کر دے تو جیسی تعبیر کی جائے ویسا ہی وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا جب تک خواب بیان نہ کیا جائے وہ واقع نہیں ہوتا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الرويا / حدیث: 2184
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2193]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2281، وغيره] ، ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔