حدیث نمبر: 2166
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے کسی برتن میں کوئی چیز پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 2165)
«يُجَرْجِرُ» کا مصدر «جَرْجَرَة» ہے جو اونٹ کی آواز پر بولا جاتا ہے، جب اونٹ صیحانی میں چلاتا ہے، پس معلوم ہوا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینے والے کے پیٹ میں دوزخ کی آگ اونٹ جیسی آواز پیدا کرے گی۔
«(اَللّٰهُمَّ أَعِذْنَا مِنْهَا، آمين)» (مولانا راز رحمہ اللہ)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الاشربة / حدیث: 2166
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2175]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5634] ، [مسلم 2065] ، [ابن ماجه 3413] ، [أبويعلی 6882] ، [ابن حبان 5341]