سنن دارمي
من كتاب الاشربة— مشروبات کا بیان
باب مَنْ شَرِبَ بِنَفَسٍ وَاحِدٍ: باب: ایک سانس میں پانی پینے کا بیان
حدیث نمبر: 2159
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے عضو مخصوص کو نہ پکڑے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے، اور نہ برتن میں سانس لے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2158)
اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: نہ داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا جائز ہے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنا درست ہے، اور نہ ہی برتن میں سانس لینا صحیح ہے۔
یہ سارے امور آدابِ طہارت کے خلاف ہیں۔
داہنا ہاتھ اچھی چیزوں اور کھانے پینے کے استعمال کے لئے ہے اور طہارت کے لئے بایاں ہاتھ ہے۔
اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: نہ داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا جائز ہے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنا درست ہے، اور نہ ہی برتن میں سانس لینا صحیح ہے۔
یہ سارے امور آدابِ طہارت کے خلاف ہیں۔
داہنا ہاتھ اچھی چیزوں اور کھانے پینے کے استعمال کے لئے ہے اور طہارت کے لئے بایاں ہاتھ ہے۔